چشمِ نم دیدۂ برباد کا سامان بنی
آہِ برباد مری ذات کا امکان بنی
ہم نے چاہا کہ بھلا دیں تری صورت لیکن
یاد پھر یاد بنی، درد کا عنوان بنی
تیرے وعدوں کی صداقت نے جلایا دل کو آگ یہ شعلۂ احساس کا سامان بنی
اشکِ شبگیر سے مہکی مری ویران فضا
اور وہ خوشبو مرے ہجر کا اعلان بنی
نظرِ خواب نے پھر باندھ دی زنجیرِ گُماں
اور یہ زُلفِ پریشاں مری حیران بنی
تُو گیا، خاک میں خوشبوئے ملاقات رہی
یہ ہوا لمسِ تمنّا کا نگہبان بنی
دل نے چاہا کہ تری یاد کو لفظوں میں لکھے
پر وہ خاموش صدا درد کا دیوان بنی
خواب کی موج سی ذیشانؔ نظر ڈھلتی رہی
آخری ساعتِ غم شمعِ غمِ جان بنی
تبصرہ بر غزل
شاعر: ذیشانؔ
انداز سخن: کلاسیکی
تبصرہ نگار: پروفیسر وید پرکاش شریواستو
(لندن، برطانیہ)
ابتدائی تاثر
ذیشانؔ کی یہ غزل پڑھتے ہی دل پر ایک نرم اداسی اترتی ہے۔ یہ وہ غزل ہے جو صرف الفاظ سے نہیں، احساس سے لکھی گئی ہے۔ اس میں ہجر کی تپش ہے مگر وہ تپش جو دل کو جلاتی نہیں، نکھارتی ہے۔ ہر شعر میں ایک لطیف خاموشی ہے جو دل کے اندر اتر کر دیر تک گونجتی رہتی ہے۔
خیال اور جذبے کی ہم آہنگی
غزل کا بنیادی محور جدائی اور یاد ہے، مگر شاعر نے ان موضوعات کو روایتی دکھ کے سانچے میں نہیں ڈھالا بلکہ انہیں فکری گہرائی عطا کی ہے۔
پہلے شعر میں "چشم نم" اور "دیدہ برباد" کے پیکر سے ایک ٹوٹے ہوئے دل کی شفاف تصویر بنتی ہے۔
"آہ برباد مری ذات کا امکان بنی" میں شاعر نے دکھ کو فنا نہیں بلکہ تخلیق کی بنیاد بنا دیا ہے۔ یہی وہ زاویہ ہے جو ذیشانؔ کو ایک سنجیدہ اور بالغ شاعر ثابت کرتا ہے۔
فنی حسن اور ساخت
ردیف "بنی" اور قافیے "سامان، امکان، اعلان، حیران" نے غزل کو صوتی توازن عطا کیا ہے۔
بحر میں روانی اور تسلسل موجود ہے، کوئی مصرع بےوزن یا بھاری محسوس نہیں ہوتا۔
شاعر نے زبان میں کلاسیکی نزاکت برقرار رکھتے ہوئے الفاظ کو نیا مفہوم دیا ہے، جو اردو غزل کی اصل روح ہے۔
تصویری اور علامتی جہت
اس غزل میں تصویری اظہار اپنی بلندی پر ہے۔
"اشک شبگیر"، "زلف پریشاں"، "شعلہ احساس"، "خواب کی موج" جیسے استعارے شاعر کی بصری قوت کا ثبوت ہیں۔
خاص طور پر یہ شعر
تو گیا خاک میں خوشبوئے ملاقات رہی
جدائی کے بعد بھی تعلق کی خوشبو باقی رہنے کا استعارہ ہے۔ یہ وہ احساس ہے جو وصال سے زیادہ پائیدار معلوم ہوتا ہے۔
فکری اور روحانی پہلو
غزل کا اختتام ایک روحانی کیفیت پر ہوتا ہے۔
"خواب کی موج سی ذیشان نظر ڈھلتی رہی
آخری ساعت غم شمع غم جان بنی"
یہ شعر غم کو روشنی میں بدلنے کا استعارہ ہے۔ شاعر نے دکھ کو فنا نہیں بلکہ بقا کا درجہ دیا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں عشق، درد اور عرفان ایک ہو جاتے ہیں۔
مجموعی تاثر
یہ غزل اردو کے کلاسیکی اسلوب اور جدید احساس کا حسین امتزاج ہے۔ ذیشانؔ نے اپنے فن سے یہ ثابت کیا ہے کہ آج بھی غزل دلوں میں دھڑک سکتی ہے، اگر اس میں سچائی، درد اور فکری نرمی موجود ہو۔
یہ غزل نہ صرف زبان کا حسن پیش کرتی ہے بلکہ انسانی احساس کی لطافت کو بھی جاوداں کر دیتی ہے۔
تبصرہ نگار: پروفیسر وید پرکاش شریواستو
(ادیب و محقق، لندن، برطانیہ)
#ZeeshanAmeerSaleemi #HijrNama #Dam_e_Inqilab #Nawa_e_Hijr_Foundation #UrduAdab #UrduPoetry #UrduGhazal #Urdu_Shairi #UrduNazam #ModernUrduPoetry #PakistaniPoet #PakistanLiterature #UrduAdabGlobal #UrduWriters #UrduLahore #UrduBooks #PoetOfPakistan #ZeeshanAmeerSaleemiPoetry #Hijr_Nama_By_Zeeshan_Ameer_Saleemi #Zeeshan_Ameer_Saleemi_Urdu_Shairi #VanguardProperties #VanguardPakistan #VanguardPropertiesDHA #UrduCulture #UrduClassics #UrduRomanticPoetry #UrduPhilosophy #LiteraryPakistan #SufiPoetry #AdabKeRang #UrduLovers #GlobalUrduVoice #UrduTrend2025 #PakistaniWriters #PoetryOfSoul #UrduModernEra #UrduQuotes #UrduLines #UrduLiterature #UrduSadPoetry #2LinesPoetry #UrduLinesOfLife #UrduWriter #UrduPoetryCommunity #ViralUrduPoetry
#ذیشان_امیر_سلیمی #ہجرنامہ #دم_انقلاب #نواۓ_ہجر_فاؤنڈیشن #اردو_ادب #اردو_شاعری #اردو_غزل #اردو_نظم #محبت_کی_شاعری #عشق_و_ہجر #جدید_اردو_ادب #فلسفۂ_شاعری #پاکستانی_شاعر #اردو_زبان #ادب_دوست #سوز_دل_کی_آواز #احساس_کی_شاعری #خواب_و_خیال #روح_کی_آواز #لفظوں_کا_سفر #محبت_کا_بیان #ادب_کی_خوشبو #غزل_کا_جہان #اردو_کا_فخر #ادبی_پاکستان #جدید_غزل #عہد_حاضر_کا_شاعر #فن_شاعری #دل_سے_لکھی_باتیں #احساس_کا_عالم #تنہائی_کا_سفر #وصل_و_فراق #ادب_کا_چراغ #لفظوں_میں_محبت #فکر_و_احساس #ادب_کا_سفر #اردو_کا_نیا_باب #دل_نواز_اشعار #نئی_نسل_کا_شاعر #ادبی_ورثہ
Comments
Post a Comment