Posts

Showing posts from October, 2025

Poet - Zeeshan Ameer Saleemi

Image
    دھوپ نے چھین لی چھاؤں کی آبرو کیا    بچائیں   گے    ہم    سایۂ    آرزو؟ وقت  کی راکھ  میں  دفن  ہیں کچھ کلام جن سے اٹھتی ہے خوابوں کی یہ گفتگو آئنے نے بھی انکار کر ہی دیا جب نظر ہو گئی آئینہ خاک خو دل   پہ تحریر تھی  رات  کی  داستاں غم کو اشکوں سے کہتے رہے مو بہ مو خواب بکھرے تو آنکھوں میں جلنے لگے یاد   کی   دھوپ    میں،  بڑھ   گئی  جستجو زخم    کہتا   رہا،   خون   بہتا    رہا عشق کی رہگزر، ہو گئی بے وضو نام   ذیشانؔ    کا، لب   پہ   کم   آ سکا یاد میں ڈھل گئی دل کی سب آرزو  ذیشانؔ امیر سلیمی  

Poet - Mirza Ghalib

Image
Mirza Ghalib was born on  27 December 1797 in Agra, India.  He passed away on 15 February 1869 in Delhi, India. Mirza Ghalib poetry is a key part of Urdu literature and has been loved for its intensity and wisdom. Ghalib's poetry encompasses themes of love, loss, and taking a philosophical approach to life, and thus is appreciated by all. His work is admired by younger generations, so whether you are looking for Mirza Ghalib shayari in Urdu text or trying to find a couple of short 2 lines that convey deep feelings, you won't find anything remotely comparable. Many people enjoy his poetry in its original couplets and copy paste to get a sense of the raw beauty of the language. کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا  

Poet - Ilama Iqbal

Image
  Allama Iqbal was born on  9th November 1877  and passed away on  21st April 1938 . He was a legendary poet, philosopher, and visionary whose work continues to inspire generations. Allama Iqbal's poetry is celebrated for its depth, spiritual insight, and motivational power. Allama Iqbal's shayari in Urdu holds special value for students and youth. In just 2 lines, his verses convey wisdom, self-respect, and national pride. His best poetry guides readers from self-awareness to patriotism, encouraging them to rise with purpose. His poetry inspires youth to discover their identity and strive for greatness. A powerful source of motivation, especially for students shaping their future. ہر مشرق کا چڑھتا سورج مجھے یہ درس دیتا ہے کہ مغرب کی طرف جاؤ گے تو ڈوب جاؤ گے

Nawa-E-Hijr Foundation

Image
Zeeshan Ameer Saleemi Urdu Poet | Chairman – Nawa-e-Hijr Foundation  CEO – Vanguard Properties Ltd Pakistan | Kingdom of Bahrain Ex- Managing Director – JS Textiles Co, Pakistan | China   Ex- Head of Operations – Gulf Maintenance Saudi Arabia Brief Introduction: Mr. Zeeshan Ameer Saleemi is a distinguished Urdu poet and literary visionary from Pakistan, recognized for his profound contribution to contemporary Urdu Adab, particularly in the genres of Classical Ghazal and Classical Nazm. His poetic expression captures the delicate emotions of love, separation, and human introspection with classical depth and modern sensibility. As the Founder and Chairman of Nawa-e-Hijr Foundation (established in 2007) , Mr. Zeeshan Ameer Saleemi has devoted his efforts to promoting Urdu literature, organizing literary gatherings, and mentoring emerging poets across Pakistan and abroad. The Foundation operates as a Non-Profit Literary Organization dedicated to preserving the cultural heritage...

Book: Hijr-Nama

Image
  کتاب : ہجرنامہ شاعر : ذیشانؔ امیر سلیمی اشاعت : مہر گرافِکس اینڈ پبلیشرز رابطہ نمبر : 00923065267717   آئی -ایس- بی -این : 9786277866358  ایڈریس : بھوانہ  بازار، فیصل آباد، پاکستان : کتاب کا مختصر تعارف ہجر نامہ صرف شاعری کا مجموعہ نہیں یہ دل کی اُن خاموش دھڑکنوں کا ترجمان ہے جو فراق کے اندھیروں میں بھی جلتی رہتی ہیں یہ اُن زخموں کی نرمی سے لکھی ہوئی داستان ہے جنہیں وقت نہیں بھرتا، بس یادوں کی خوشبو انہیں زندہ رکھتی ہے ذیشانؔ امیر سلیمی کے اشعار میں ہجر کی تلخی، وصل کی نمی، اور احساس کی لطافت ایسے گھل مل جاتی ہے کہ ہر مصرعہ ایک لمحۂ جاوداں بن جاتا ہے ان کی شاعری میں جدائی کوئی دکھ نہیں بلکہ ایک روحانی سفر ہے جہاں درد، دعا کی صورت میں بدل جاتا ہے ہر غزل میں ایک نیا آسمانِ احساس ہے ہر شعر میں کسی خاموش آنسو کی چمک چھپی ہے یہ کتاب اُن دلوں کے لیے ہے جو محبت کی روشنی میں جلتے رہے اور جنہوں نے ہجر کے اندھیروں میں بھی امید کے دیے روشن رکھے اگر آپ نے کبھی کسی کو دل سے چاہا ہے اگر آپ نے کبھی تنہائی میں کسی نام کو پکارا ہے تو ہجر نامہ آپ کے دل کی وہ صدا بن...

Poet - Zeeshan Ameer Saleemi

Image
  میری کہکشاں  میں  یہ طُولِ ہجر ہے سخت دِل  کی  گہرائی   میں  اُصولِ  ہجر ہے سخت ذرّے ذرّے میں ہے تَراپِ رُوحِ جمال جلوۂ حُسن و جاں پہ دُخولِ ہجر ہے سخت چاند   کے  حلقۂ ضَو میں صُبح  کا  ہے  قطرہ روشنی کے یہ بدن پہ نُزُولِ ہجر ہے سخت ابر  کی نغمہ سُخن  میں   صدائے  یاد  اُٹھے قطرۂ خُونِ  جگر  پہ  قُبولِ  ہجر   ہے سخت زُلف   کی   تیرگی  میں  کمال  کا ہے   یہ  سفر روشنی کی کرنوں میں حُصولِ ہجر ہے سخت جسم   کی  خوشبوؤں   میں  بکھر  گئی  بیتابی روح  کی  گہرائی  کو  دُخولِ  ہجر ہے سخت اس  رخِ گردِ سحر  میں  چراغِ  گلاب جلے دید کی محفل پر بھی نُزُولِ  ہجر ہے سخت قسمتِ شب میں بہتی ہے جستجو  کی لہریں یار  کی  جانب   گامِ  وصولِ  ہجر  ہے سخت دل   رنجور    کو   لے   آیا    بہا  کے   ذیشان...

Poet - Zeeshan Ameer Saleemi

Image
   عشق ہوں،   جلوۂ   گفتار  بھی   کر سکتا   ہوں میں   ترے   ہجر کا  اقرار  بھی کر سکتا ہوں تو نے سمجھا کہ میں مجبور ترے غم سے ہوں میں تری ذات سے انکار بھی کر سکتا ہوں اپنے ہی اشکوں کی تحریر سے، اے ناقدِ وقت میں     ترا    ذکر    گرفتار    بھی  کر  سکتا    ہوں داورِ وقت! میں وہ شخص نہیں جو رُک جائے حق   کی تحریر   کو   گفتار   بھی  کر  سکتا    ہوں میرے سینے میں اگر درد کا دریا ہے رواں میں اسی موج کو  پتوار  بھی کر  سکتا  ہوں تیری زلفوں میں چھپا خوابِ تمنا کا نشاں میں تری شام کو بیدار بھی کر سکتا ہوں تیری پلکوں  پہ  اگر  نیند  کا موسم ٹھہرے میں تری  نیند  کا دیدار بھی کر سکتا  ہوں تیرے لب پر جو ٹھہر جائے  مرا  نام کبھی میں تری دھڑکنوں کو پیار بھی کر سکتا ہوں عشق  ذیشانؔ ، اگر  موجِ  طلب بن جائے راوی  لاہور  کا  میں  پار  بھی کر سکتا ...

Poet - Zeeshan Ameer Saleemi

Image
  رخسار    پہ جھلکی ہے  ضِیا  کھینچ کے حیرت آنکھوں نے کیا حُسن دعا کھینچ کے حیرت اسرارِ ازل  پردۂ   امکان  میں چھپ کر ہر رمز ہے معنی کی ادا کھینچ کے حیرت پیمانۂ ہستی میں ترے لب کی ہے خوشبو مے خانہ  بھی کرتا ہے  نوا  کھینچ کے حیرت افکار کے طوفاں میں ترا نام ہے جگمگ تصویر  ہے معنی   کی   بنا کھینچ کے حیرت تقدیر  کے صحرا  میں ترا نقشِ کفِ پا کرتا ہے مرا قافلہ را کھینچ کے حیرت عالم  کے  اسرار  ترے  چشم  میں  ہیں  محو افلاک بھی کرتے ہیں ادا کھینچ کے حیرت گہوارۂ امواج  میں  خوابیدہ  ہے  صورت دریا سے نکلتی ہے صدا کھینچ کے حیرت ہر   ذرّہ  ترے حسن   کو تسلیم  کرے  ہے خورشید ہے مٹی میں چھپا کھینچ کے حیرت ذیشانؔ نے لکھ دی ہے غزل شوق سے آخر اشعار  نے   کی     جاں  کو  وفا  کھینچ کے حیرت ذیشانؔ امیر سلیمی