ذیشان امیر سلیمی ہجر کی جمالیات اور دل کی زبان
ذیشان امیر سلیمی ہجر کی جمالیات اور دل کی زبان
اردو شاعری میں ہجر ہمیشہ سے ایک مرکزی جذبہ رہا ہے، مگر جس انداز میں ذیشان امیر سلیمی نے اسے اپنی کتاب ہجر نامہ میں برتا ہے، وہ ایک بالکل نیا زاویہ پیش کرتا ہے۔ ان کے اشعار دکھ کو صرف بیان نہیں کرتے بلکہ اسے سمجھنے، جینے اور قبول کرنے کا ہنر سکھاتے ہیں۔
ہجر نامہ اردو ادب میں ایک ایسی کتاب کے طور پر ابھری ہے جو احساسات کی تہوں میں اتر کر قاری کے دل سے بات کرتی ہے۔ یہ کتاب پڑھنے والا محسوس کرتا ہے کہ شاعر نے ہجر کو ایک دردناک واقعہ نہیں بلکہ روح کی بیداری کا لمحہ بنا دیا ہے۔
شاعری کی داخلی روح
ذیشان امیر سلیمی کے ہاں جذبۂ عشق کسی جذباتی کمزوری کا نام نہیں۔ ان کی شاعری میں عشق ایک شعوری تجربہ ہے جو انسان کو اپنی اصل سے قریب کرتا ہے۔ وہ دکھ کو گلے لگاتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک درد ہی وہ روشنی ہے جو انسان کو خود سے روشناس کراتی ہے۔
ان کے کلام میں وہ نرمی اور وقار ہے جو بڑے شاعروں کی پہچان ہوتی ہے۔ ہر لفظ میں سکون ہے، ہر مصرع میں تھرکن۔ ان کے یہاں غم میں بھی ایک خوبصورتی ہے جو قاری کے دل کو چھو جاتی ہے۔
ہجر نامہ احساس کا آئینہ
ہجر نامہ کے صفحات میں محبت، جدائی اور وقت کی گردش ایک ہی دائرے میں گھومتی نظر آتی ہیں۔ شاعر نے جذبات کو ایسی نفاست سے بیان کیا ہے کہ ہر غزل ایک مکالمہ بن جاتی ہے۔ کبھی محبوب سے، کبھی اپنے آپ سے، اور کبھی خاموشی سے۔
کتاب سے چند اشعار
پ نے چھین لی چھاؤں کی آبرو
کیا بچائیں گے ہم سایۂ آرزو؟
وقت کی راکھ میں دفن ہیں کچھ کلام
جن سے اٹھتی ہے خوابوں کی یہ گفتگو
آئنے نے بھی انکار کر ہی دیا
جب نظر ہو گئی آئینہ خاک خو
دل پہ تحریر تھی رات کی داستاں
غم کو اشکوں سے کہتے رہے مو بہ مو
ادبی تاثر اور مقام
نقادوں کے مطابق ذیشان امیر سلیمی کی شاعری اردو غزل کے نئے دور کی نمائندگی کرتی ہے۔ ان کے اشعار میں روایتی حسن تو موجود ہے لیکن وہ جدید ذہن کے انسان کے دکھ کو بھی اپنی گرفت میں لیتے ہیں۔ ان کی شاعری دل کی بات کو عقل کی زبان میں پیش کرتی ہے، جو انہیں اپنے معاصر شعرا سے الگ پہچان دیتی ہے۔
ان کے کلام کو بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے۔ کینیڈا، امریکہ، خلیج اور یورپ میں اردو کے قاری ہجر نامہ کو اردو شاعری کے جدید رجحان کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
اختتامیہ
ذیشان امیر سلیمی نے ہجر کو ایک تخلیقی کائنات میں بدل دیا ہے۔ ان کی شاعری بتاتی ہے کہ جدائی اگر خلوص سے محسوس کی جائے تو وہ انسان کے اندر نیا شعور بیدار کر دیتی ہے۔ ہجر نامہ محض ایک کتاب نہیں، احساس کی وہ دھڑکن ہے جو اردو ادب کے دل میں ہمیشہ سنائی دے گی


Comments
Post a Comment